ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مسلمان باہم متحد ہوں اور انتشار وتفریق سے خود کو دور رکھیں!

مسلمان باہم متحد ہوں اور انتشار وتفریق سے خود کو دور رکھیں!

Sun, 24 Apr 2016 17:22:28    آئی این ایس انڈیا

بنگلور میں منعقد تاریخ ساز عظمت صحابہ کانفرنس سے امام حرم کا روح پرورخطاب

اسلام اور مسلمانوں کا دہشت گردی سے کوئی رشتہ نہیں: مولانا سید ارشد مدنی


نئی دہلی9اپریل(آئی این ایس انڈیا)اسلام امن ،محبت اور اتحاد کی تعلیم دیتا ہے اور میں خادمین حرمین شریفین اور سعودی عرب کے علماء ، ائمہ اور عوام کی جانب سے امن، محبت اوراتحاد کا پیغام لے کرہندوستان آیا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار بنگلور کے پیلیس گراؤنڈ میں منعقدہ تاریخ سازاور عظیم الشان عظمت صحابہ کانفرنس میں امام حرم ڈاکٹر شیخ صالح بن محمد ابراہیم آل طالب نے فرمایا۔ واضح ہو کہ امام حرم جمعیۃ علماء ہند کی دعوت پر آج کل ہندوستان کے دورے پر ہیں۔ امام حرم نے صحابہ کرامؓ کی عظمت اور دین کی اہمیت کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول کریمؐ کے بعد دین صحابہ کرام کے توسل سے ہی ہم تک پہنچا ہے۔
اگر صحابہ کرام نہ ہوتے تو دین ہم تک نہ پہنچ پاتا۔ انہو ں نے فرمایا کہ دین اسلام کے لئے صحابہ کرام کی خدمات ہمارے لئے مشعل راہ بھی ہیں۔دوران تقریر امام حرم نے سورہ حشر کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایاکہ ایک تو صحابہ ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو ان کے نقش قدم پہ چلتے ہیں ا ن کے لئے اللہ نے اپنی رضا کا وعدہ فرمایا ہیںآپ بتائیے کہ آپ ان کے نقش قدم پہ چلتے ہیں یاجولوگ صحابہ کے نقش قدم سے انحراف کرتے ہیں ان کے نقش قدم پہ چلتے ہیں۔امام صاحب نے فرمایا آپ لوگ صحابہ کے نقش قدم پہ چلیں گے؟۔ تمام لوگوں نے ہاتھ اٹھا کر وعدہ کیا کہ ہم صحابہ کے نقش قدم پہ چلیں گے۔ امام حرم نے ایک بار پھر وضاحت فرمائی کہ اسلام امن محبت اور اتحاد کا درس دیتا ہے اور وہ خادمین حرمین شریفین کے اسی پیغام کے ساتھ ہندوستان آئے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر یہ بات بھی کہی کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے چنانچہ اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں دیگر مذاہب کے درمیان پھیلا دی گئی ہیں انہیں دور کرنے کے لئے علمائے کرام کو بین المذاہب مذاکروں کا انعقاد کرنا چاہئے اور اس طرح کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے۔ انہوں نے مسلمانوں سے متحدہوکر اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے پر اصرار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں خود بھی ان تعلیمات پر پوری مستعدی اور مضبوطی سے عمل کرنا چاہئے۔ امام حرم نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ائمہ اربعہ نے دین کو اچھی طرح سمجھا اور ملت اسلامیہ کو دین اسلام پر عمل کرنے کا طریقہ بتایا۔ ان ائمہ کا طریقۂ عمل مختلف اور الگ ہوسکتا ہے لیکن قرآن وحدیث کے تعلق سے ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں رہا اور انہوں نے تقویٰ کے ساتھ قرآن و سنت کی تشریح کی۔ امام حرم نے فرمایا کہ مسلکی اختلاف کے باوجود ان کے درمیان جو اتحاد تھا وہ ہمارے لئے قابل تقلید ہے۔امام کعبہ ڈاکٹر صالح نے کہا کہ آج اسلام کو دشمن طاقتوں سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ آج سب سے زیادہ ضرورت اتحاد،اخوت و رواداری کی ہے۔ اختلافات اور سرکشی سے ہمیں دور رہنا چاہیے۔ سب سے بدترین وہ لوگ ہیں جو تفریق پیداکرنا چاہتے ہیں۔ امام کعبہ نے مزید کہا کہ جو صحابہ سے دوری رکھنا چاہتے ہیں ان سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت دین اعتدال پر قائم ہے، یہ بات کچھ طاقتوں کو پسند نہیں آتی اسی لئے وہ اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے یہ ہدایت دی کہ وہ ہندوستان جائیں اوروہاں کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیں کہ مذہب اسلام امن کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمان باہم متحد ہوں اور اپنی صفوں میں انتشارنہ رکھیں۔اس طرح کی وہ کوششیں جو مسلمانوں میں انتشار پیدا کرتی ہیں ان کے خلاف جدو جہد کی جائے۔
عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اتنا بڑا مجمع اس بات کا غماز ہے کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے مذہبی قائدین کے تئیں عقیدت واحترام کا جذبہ رکھتے ہیں اور یہ جمعیۃ علماء ہند سے ان کے لگاؤکی بھی دلیل ہے۔امام کعبہ نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی اسلام کے دفاع اور اسلام کے سلسلہ میں انجام دی جانے والی خدمات مثالی ہیں۔اس نے دین اسلام کو صحیح منہج پر قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں نے دنیا میں بہت سے لوگوں سے ملاقات کی ہے لیکن صدرِ جمعیۃ علمائے ہند مولانا سید ارشد مدنی نہایت ممتاز شخصیات میں سے ہیں اور میں اس عظیم کانفرنس کی کامیابی پرمیں جمعیۃ علماء ہند کومبارکباد پیش کرتا ہوں۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے امام حرم کا جمعیۃ علماء ہنداورتمام مسلمانوں کی جانب سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان آج بھی صحابہ کرام کے متعین کردہ راستوں پرگامزن ہیں۔ انہوں نے ایک تلخ سچائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل بڑی حد تک صحابہ کرام کی دین کیلئے کی گئی خدمات سے پوری طرح واقف نہیں ہے کیونکہ اسے عام اسکولوں میں یہ سب پڑھایا اور بتایا نہیں جاتا اور بیشتر لوگ اپنے بچوں کو دین کی تعلیم دلانے میں کوتاہی برتتے ہیں۔ ان حالات میں اشد ضروری ہے کہ نئی نسل کو صحابہ کرام کی عظمت،شجاعت،عبادت اور سخاوت سے روشناس کرایا جائے۔ مولانا مدنی نے کہاکہ جمعیۃ علماء ہند اس سے قبل بھی عظمت صحابہ کانفرنس کا انعقاد کرچکی ہے جس میں امام حرم ڈاکٹر شیخ عبدالرحمن السدیس اور ڈاکٹر عبدالمحسن امام حرم مدنی بھی تشریف لاچکے ہیں۔ انہوں نے آگے کہا کہ آج کی اس تاریخی کانفرنس میں امام حرم شیخ صالح بن محمد آل طالب کی شرکت ہمارے لئے باعث افتخار ومسرت ہے۔ دہشت گردی کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کا دہشت گردی سے کسی طرح کاکوئی رشتہ نہیں ہے۔ البتہ ایک عالمی سازش کے تحت اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے یہ سب ہورہا ہے اور کچھ نام نہاد مسلمان اس طرح کی حرکتوں میں ملوث ہو کر اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ہم ان سب کی سخت مذمت کرتے ہیں اور ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے ۔اقتدار کی کرسی پر کون آتا ہے کون جاتا ہے اس سے جمعیۃ علماء ہند کو کوئی مطلب نہیں ہے ۔ہماری جماعت اول و آخر خالص مذہبی جماعت ہے ۔ ہم اللہ اور رسول اللہ کا پیغام دنیا تک پہنچاتے ہیں اور ہمیں کچھ لینادینانہیں ہے۔ہمارامقصد عظمت صحابہ کے کردار کو آپ تک پہنچانا ہے ۔قرآن جنت کی ضمانت یا توصحابہ کرام کو دیتا ہے یاان لوگوں کودیتاہے کہ جو ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔ عظمت صحابہ کانفرنس کے دوران بنگلور کے اس وسیع وعریض پیلس گراؤنڈ کا منظر دیدنی تھا۔تاحد نظر انسانوں کے سرہی سرنظر آرہے تھے اور وقفہ وقفہ سے نہ صرف گراؤنڈ بلکہ اطراف واکناف کا پورا خطہ اللہ اکبر، عظمت صحابہ ،امام حرم اور مولانا سید ارشد مدنی کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ کرناٹک کی تاریخ میں ایسا روح پر ور منظر بھی پہلی بار دیکھنے کو ملا جب امام حرم کی اقتداء میں پانچ اور چھ لاکھ کی تعداد کے قریب لوگوں نے مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی اور ان کی دعاء پرکانفرنس کا اختتام ہوا۔قبل ازیں جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے رکن مولانا سید اسجد مدنی نے اپنے مختصر مگر جامع خطاب میں کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آج کی اس عظیم الشان کامیاب عظمت صحابہ کانفرنس کے انعقاد کے بعد ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اب اس پیغام کو گھر گھر پہونچایا جائے اور بتایا جائے کہ اصحاب رسول کی طرز زندگی کو اپنا کر ہی فلاح کو پہنچ سکتے ہیں۔مولانا سید ارشد مدنی کی صدارت میں منعقدہ اس کانفرنس کا آغازحافظ ایل فاروق ناظم اعلی جمعیۃ علماء کرناٹک نے تلاوت کلام اللہ سے کیا۔نظامت کے فرائض مولانا حسن اسجد مدنی نے انجام دیئے جبکہ قاری صالح سلطانپوری نے عظمت صحابہؓ پرمنظوم کلام پیش کیا۔استقبالیہ کلمات مولاناعبد الرحیم رشیدی صدرجمعےۃ علماء کرناٹک نے پیش کئے۔


Share: